نئی دہلی،8/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کو راجیہ سبھا کے موجودہ اجلاس سے معطل کر دیا گیا ہے۔ منگل کو راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے ڈیرک اوبرائن کو ایوان میں بدتمیزی کے لیے نامزد کیا۔ چیئرمین نے ڈیرک اوبرائن کو فوراً راجیہ سبھا چھوڑنے کا حکم دیا۔ اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ کو بھی موجودہ مانسون سیشن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
ڈیریک اوبرائن پوائنٹ آف آرڈر کا مسئلہ اٹھا کر بولنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے منی پور کا مسئلہ اٹھایا اور چیئرمین کے روکنے پر بھی بات جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر مسلسل منی پور تشدد پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مطالبے کی بنیاد پر بحث ہونی چاہئے۔ اسپیکر ڈیرک کے رویے سے ناراض ہو گئے اور انہیں ایوان سے نکل جانے کو کہا۔
اس کے بعد راجیہ سبھا میں قائد ایوان پیوش گوئل نے تجویز پیش کی کہ ڈیرک اوبرائن کو ایوان میں مسلسل خلل ڈالنے کی پاداش میں مانسون سیشن کے بقیہ حصے کے لیے معطل کر دیا جائے۔ پیوش گوئل کی اس تجویز کو منظور کرتے ہوئے اسپیکر نے ڈیرک کو مانسون سیشن کے بقیہ اجلاس کے لیے معطل کر دیا۔
خیال رہے کہ پیر کو دہلی سروسز بل پر گرما گرم بحث کے دوران راجیہ سبھا کے چیئرمین دھنکھڑ ٹی ایم سی کے رکن ڈیرک اوبرائن پر ناراض ہو گئے تھے۔ پیر کو ہونے والی بحث کے دوران ڈیرک نے اپنی بات کو گورنمنٹ آف نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری آف دہلی ترمیمی بل 2023 تک محدود کرنے سے انکار کر دیا اور مرکزی حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔
پھر چیئرمین نے ڈیرک اوبرائن سے کہا یہ تمہاری عادت بن گئی ہے۔ آپ یہ ایک حکمت عملی کے حصے کے طور پر کر رہے ہیں۔ تم نے اس ایوان کا وقت ضائع کیا۔ چیئرمین نے برائن سے پوچھا تھا کہ کیا آپ یہاں صرف ہنگامے کے لیے آئے ہیں؟ انہوں نے ڈیرک اوبرائن سے بھی پوچھا کہ کیا یہی آپ کا حلف ہے؟